روس کا یورپ پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں، پیوٹن
یورپ کی جانب سے روس کو خطرے کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں درست نہیں، روسی صدر
ماسکو: فوجی و صنعتی کمیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یورپ یا کسی یورپی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور ماسکو اپنے یورپی ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور تعاون کیلئے تیار ہے۔
پیوٹن نے بعض یورپی رہنماؤں پر روس کے ساتھ جنگ کی تیاری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین تنازع اور روسی خطرے کو اپنی پالیسیوں اور اقدامات کے جواز کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ یورپ کی جانب سے روس کو خطرے کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں درست نہیں جب کہ ماسکو کی جانب سے یورپی ممالک کے ساتھ دوبارہ تعاون اور تعلقات بہتر بنانے کی آمادگی موجود ہے۔
پیوٹن نے بحیرۂ بالٹک میں ہونے والی حالیہ فوجی مشقوں پر بھی اعتراض کیا اور دعویٰ کیا کہ ان مشقوں میں شہری بحری جہازوں پر قبضے کی مشق بھی شامل تھی۔
روسی صدر نے خبردار کیا کہ اگر روس کے خلاف ایسے اقدامات جاری رکھے گئے تو ماسکو جواب دینے پر مجبور ہوگا تاہم انہوں نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ کشیدگی کے بجائے امن اور باہمی تعاون کا راستہ اختیار کیا جائے۔
پیوٹن نے روس کے نئے ریاستی دفاعی پروگرام کی ترجیحات بھی بیان کیں جن میں مسلح افواج اور دفاعی صنعت کی جدید کاری کو اہمیت دی گئی ہے۔
پیوٹن کے مطابق پروگرام میں روس کی جوہری سہ فریقی صلاحیت کو مضبوط بنانا، فضائی دفاع کو بہتر کرنا، بغیر پائلٹ اور روبوٹک نظام تیار کرنا اور جدید درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کی تیاری شامل ہے۔
روسی صدر نے بتایا کہ روس کی اسٹریٹجک میزائل فورسز میں 92 فیصد ہتھیار جدید نظاموں پر مشتمل ہیں۔ پیوٹن نے جوہری سہ فریقی صلاحیت کو روس کی خودمختاری کے تحفظ اور عالمی طاقت کے توازن برقرار رکھنے میں اہم قرار دیا۔
انہوں نے روس کے مداری سیٹلائٹ نظام کی تکمیل پر بھی زور دیا جس کے ذریعے خلائی نگرانی، نیویگیشن، سیٹلائٹ مواصلات اور دیگر صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا منصوبہ ہے۔
