امن مذاکرات کا فیصلہ اب امریکا کے ہاتھ میں ہے؛ ایرانی وزیر خارجہ
اپنے حقوق کا دفاع کرنے اور امن کے قیام کی کوششوں میں کوئی تضاد نہیں، عباس عراقچی
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امن مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ اب امریکا کے ہاتھ میں ہے جب کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے واشنگٹن کو سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ماضی کی غلطیاں دہرانے سے خطے میں امن بحال نہیں ہوسکتا۔ ایران جنگ سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ ہے، اسی لیے امن کی کوششوں کو اہمیت دیتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اپنے حقوق کا دفاع کرنے اور امن کے قیام کی کوششوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ ایران اپنے عوام، قومی خودمختاری اور جائز مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے گریز کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو سمجھتا ہے اور اسی وجہ سے امن کو اہمیت دیتا ہے جب کہ امن مذاکرات سے متعلق فیصلہ کرنے کی ذمہ داری اب امریکا پر عائد ہوتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ مزید کہتے ہیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو سات روزہ منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔
