وزارت خزانہ نے فنڈز کے اجرا کو دستیاب مالی گنجائش سے مشروط کردیا

وزارت خزانہ نے فنڈز کے اجرا کو دستیاب مالی گنجائش سے مشروط کردیا

نئی مالی ہدایات کے مطابق فنڈز کی دوبارہ تخصیص اور اضافی رقوم کی فراہمی کے لیے نئے قواعد نافذ کیے گئے ہیں

 وزارتِ خزانہ نے فنڈز کے اجرا کو دستیاب مالی گنجائش سے مشروط کرتے ہوئے ضمنی گرانٹس اور فنڈز کی دوبارہ تخصیص کے طریقہ کار کو مزید سخت کردیا ہے۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نئی مالی ہدایات کے مطابق فنڈز کی دوبارہ تخصیص اور اضافی رقوم کی فراہمی کے لیے نئے قواعد نافذ کیے گئے ہیں۔ ہدایات کے تحت 31 مئی کی مقررہ ڈیڈ لائن میں نرمی صرف غیر معمولی حالات میں کی جائے گی۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق جون میں ناگزیر ادائیگیوں اور تنخواہوں کی کمی کے معاملات میں رعایت دی جاسکے گی تاہم جاری نہ کیے گئے بجٹ سے فنڈز کی دوبارہ تخصیص پر پابندی ہوگی۔

نئی ہدایات کے تحت مجاز افسران اپنے تفویض کردہ مالی اختیارات کے اندر رہتے ہوئے فنڈز کی دوبارہ تخصیص کرسکیں گے۔ ملازمین سے متعلق اخراجات میں کمی کی صورت میں نان ایمپلائز اخراجات سے فنڈز منتقل کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔

وزارتِ خزانہ نے ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2026 کی ادائیگی کے لیے اضافی فنڈز بھی فراہم کردیئے ہیں۔ تاہم الاؤنس کے لیے مختص فنڈز کی دوبارہ تخصیص صرف اسی مقصد کے لیے کی جاسکے گی، جبکہ دوبارہ تخصیص کے بعد فنڈز سہ ماہی اجرا کی مقررہ حدود میں رہیں گے۔

نئی ہدایات کے مطابق ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کی درخواستیں صرف پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران جمع کراسکیں گے۔ ایسی گرانٹس کے لیے مساوی رقم سرنڈر کرنے کی تصدیق بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

وزارتِ خزانہ نے سپلیمنٹری گرانٹس کے ذریعے پارلیمنٹ سے منظور شدہ سطح سے زائد اخراجات کی حوصلہ شکنی کا فیصلہ کیا ہے۔ شدید قدرتی آفات کے علاوہ اضافی غیر بجٹ اخراجات کے لیے سپلیمنٹری گرانٹ زیرِ غور نہیں لائی جائے گی۔

پی ایس ڈی پی سے متعلق ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کے معاملات وزارتِ منصوبہ بندی کے ذریعے نمٹائے جائیں گے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق نئی مالی ہدایات رواں مالی سال اور آئندہ مالی سالوں کے لیے نافذ کردی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے