ملک بھر میں 5 سال کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ہزاروں کیسز، سینیٹ میں رپورٹ پیش

ملک بھر میں 5 سال کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ہزاروں کیسز، سینیٹ میں رپورٹ پیش

کمیشن کے مطابق درج کیے گئے کیسز میں سے ایک ہزار 28 نمٹائے جا چکے ہیں

ملک بھر میں 2021 سے 2026 تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 41 ہزار 428 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں پنجاب سرفہرست رہا۔ وزارت انسانی حقوق کی جانب سے یہ اعدادوشمار سینیٹ اجلاس کے وقفہ سوالات کے دوران پیش کیے گئے۔

وزارت انسانی حقوق کے مطابق اس عرصے میں پنجاب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سب سے زیادہ 14 ہزار 498 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جبکہ سندھ میں 10 ہزار 705، خیبر پختونخوا میں 9 ہزار 919 اور بلوچستان میں 3 ہزار 680 کیسز رپورٹ ہوئے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 2 ہزار 626 کیسز سامنے آئے۔

وزارت کے پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق صرف سال 2025 میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 8 ہزار 758 کیسز رپورٹ کیے گئے۔

دوسری جانب قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ 15 اکتوبر 2026 تک شکایات اور ازخود نوٹس کی کارروائیوں کے مجموعی طور پر ایک ہزار 406 کیسز درج کیے گئے۔ ان میں ایک ہزار 116 شکایات جبکہ 290 ازخود نوٹس کے کیسز شامل ہیں۔

کمیشن کے مطابق درج کیے گئے کیسز میں سے ایک ہزار 28 نمٹائے جا چکے ہیں، جبکہ 373 کیسز زیرِ تفتیش ہیں۔ کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق 5 کیسز سماعت کے مرحلے میں ہیں۔

سینیٹ میں پیش کیے گئے یہ اعدادوشمار ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد اور ان کے مختلف صوبوں میں پھیلاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے