پاکستان کے خلاف فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب، رائٹرز کی رپورٹ بھی سوالات کی زد میں
افغان طالبان کمانڈروں کی ٹی ٹی پی جنگجوؤں کے جنازوں میں شرکت کے شواہد کو بھی نظرانداز کیا گیا
سرکاری ذرائع نے افغان طالبان حکومت پر کنڑ اور نورستان میں ہلاک و گرفتار افغان باشندوں کو پاکستانی شہری ظاہر کرکے پاکستان پر دراندازی کا الزام لگانے کی سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت اپنے مبینہ ماسٹر ہینڈلر را اور مودی سرکار کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے جبکہ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی بغیر قابلِ تصدیق شواہد اور آزادانہ صحافتی تحقیق کے افغان وزارتِ دفاع کے مؤقف کو خبر بنا دیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری تصاویر نے مبینہ فالس فلیگ ڈرامے کو بے نقاب کردیا ہے، جن میں ہلاک افراد واضح طور پر مقامی افغان باشندے دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع نے سوال اٹھایا کہ ہلاک افراد کے صاف ستھرے اور رنگ برنگے کپڑے رائٹرز کو کیوں نظر نہیں آئے، جبکہ کنڑ اور نورستان میں سخت سرد موسم کے باوجود ان کے پاس گرم کپڑے بھی موجود نہیں تھے۔
ذرائع نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ افراد پہلے سے قید ہوسکتے ہیں جنہیں قتل کرکے واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، یا وہ افغان طالبان کے ہاتھوں قتل ہونے والے عام شہری بھی ہوسکتے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے سوال اٹھایا کہ اگر ہلاک شدگان میں پاکستانی شہری شامل تھے تو ان کی شناخت اور پاکستان سے تعلق کے ثبوت کیوں پیش نہیں کیے گئے؟ اسی طرح افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردوں کی دراندازی کے واضح شواہد اور ٹی ٹی پی و بی ایل اے کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں پر رائٹرز کی توجہ کیوں نہیں گئی؟
ذرائع نے رائٹرز کی رپورٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے اسے یکطرفہ قرار دیا اور کہا کہ معمولی تحقیق سے ہی افغان طالبان کے دعووں کی حقیقت جانچی جاسکتی تھی۔ ان کے مطابق پاکستانی حکام ٹی ٹی پی کے دہشت گرد حملوں میں ملوث 260 افغان شہریوں کے نام اور پتے فراہم کرچکے ہیں، تاہم اس معاملے کو رائٹرز نے اہمیت نہیں دی۔ اسی طرح افغان طالبان کمانڈروں کی ٹی ٹی پی جنگجوؤں کے جنازوں میں شرکت کے شواہد کو بھی نظرانداز کیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق 2026 میں افغان سرحد سے آنے والے دہشت گردوں کے حملوں میں 1,327 پاکستانی شہید اور 2,484 زخمی ہوئے، تاہم اتنے بڑے انسانی نقصان کو بھی رائٹرز نے مناسب اہمیت نہیں دی۔
ذرائع نے مزید کہا کہ افغان طالبان حکومت خود جولائی سے بدخشان، نورستان اور کنڑ میں اندرونی لڑائیوں کا اعتراف کرچکی ہے، جہاں جمعہ خان، قیوم ملنگ، اے ایف ایف، این آر ایف، اے یو ایف اور داعش سمیت مختلف مزاحمتی اور مسلح گروہ سرگرم ہیں۔ ان کے مطابق نورستان اور کنڑ میں جاری لڑائی کی اصل وجہ معدنیات اور قدرتی وسائل کے استحصال پر تنازعات ہیں، لیکن اس اہم پہلو کو بھی رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں نظرانداز کیا۔
سرکاری ذرائع نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت داخلی سلامتی کے مسائل اور اندرونی لڑائیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہی ہے، جبکہ رائٹرز نے افغان وزارتِ دفاع کے دعووں پر سوال اٹھائے بغیر یکطرفہ خبر شائع کرکے صحافتی اصولوں کو نظرانداز کیا۔
ذرائع نے کہا کہ پاکستان کے خلاف مودی سرکار کا مبینہ فالس فلیگ ڈرامہ ماضی میں کامیاب نہیں ہوا اور افغان طالبان بھی ایسے الزامات کے ذریعے عالمی برادری کو گمراہ نہیں کرسکتے۔ تاہم ان الزامات اور دعووں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔
