بہتر صحت کے لیے ضروری جسم میں تمام ضروری وٹامنز اور منرلز کا توازن میں ہونا ضروری ہے تاہم کچھ وٹامنز کی کمی جسم کے افعال کو شدید متاثر کرتی ہے انہیں میں وٹامن ڈی بھی شامل ہے۔
وٹامن ڈی انسانی جسم کے لیے ایک اہم وٹامن ہے جو ہڈیوں اور دانتوں کی صحت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ جسم میں کیلشیم کے جذب، پٹھوں کے افعال اور مدافعتی نظام کے معمول کے کام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں وٹامن ڈی کی کمی عام پائی جاتی ہے اور بعض افراد میں اس کی علامات واضح نہیں ہوتیں۔
وٹامن ڈی کی کمی کی صورت میں جسم کیلشیم کو مناسب مقدار میں جذب نہیں کر پاتا جس سے ہڈیوں کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ بچوں میں شدید کمی رکٹس جبکہ بالغ افراد میں ہڈیوں کے کمزور ہونے اور دیگر مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کی ممکنہ علامات میں تھکن، پٹھوں یا ہڈیوں میں درد اور پٹھوں کی کمزوری شامل ہیں۔ تاہم یہ علامات کئی دیگر طبی مسائل کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر وٹامن ڈی کی کمی کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔
وٹامن ڈی کے قدرتی ذرائع
جسم سورج کی الٹرا وائلٹ بی (UVB) شعاعوں کی مدد سے وٹامن ڈی بنا سکتا ہے، جبکہ غذا کے ذریعے بھی اس کی کچھ مقدار حاصل کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا روزانہ ایک انڈا کھانا وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرسکتا ہے؟
وٹامن ڈی کے غذائی ذرائع میں چربی والی مچھلی، انڈے کی زردی اور وٹامن ڈی سے افزودہ غذائیں شامل ہیں۔ بعض اقسام کے مشروم میں بھی وٹامن ڈی پایا جاتا ہے۔
سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی حاصل ہونے کی مقدار مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے جن میں جلد کی رنگت، عمر، موسم، دن کا وقت، جغرافیائی مقام اور جسم پر موجود جلد کی مقدار شامل ہے۔ اسی لیے ہر فرد کے لیے دھوپ میں رہنے کا ایک مقررہ دورانیہ یکساں طور پر مؤثر نہیں ہوتا۔
سپلیمنٹ کب استعمال کیا جائے؟
اگر خون کے ٹیسٹ سے وٹامن ڈی کی کمی ثابت ہو جائے تو ڈاکٹر مریض کی عمر، صحت اور کمی کی شدت کے مطابق سپلیمنٹ تجویز کر سکتے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس کی ضرورت سے زیادہ مقدار نقصان دہ ہو سکتی ہے اور خون میں کیلشیم کی مقدار بڑھنے سمیت صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
بالغ افراد کے لیے وٹامن ڈی کی عام تجویز کردہ روزانہ مقدار عمر کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے اس لیے سپلیمنٹ شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا مستند طبی ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
ماہرین کے مطابق متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ وٹامن ڈی کی مناسب مقدار برقرار رکھنا مجموعی صحت کے لیے اہم ہے۔
