اسلام آباد: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو حرمین شریفین کے تحفظ اور خطے میں مشترکہ دفاعی تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے جس کے تحت تینوں ممالک نے باہمی دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو حرمین شریفین کے دفاع اور مسلم امہ کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جب کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت پہلے ہی حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے گریز کے عزم کا اظہار کرچکی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے اس اسٹریٹجک معاہدے کو خطے میں امن و استحکام اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
معاہدے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی حالات کے تناظر میں تینوں ممالک کے درمیان تعاون جدید جنگی شعبوں تک پھیل سکتا ہے جن میں ڈرون ٹیکنالوجی، انفارمیشن وارفیئر اور نان کانٹیکٹ وارفیئر سمیت دیگر جدید دفاعی جہتیں شامل ہیں۔
حرمین شریفین کے تحفظ کو پاکستان کے لیے مذہبی اور جذباتی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ مسلم امہ کی مقدس مقامات سے گہری وابستگی کے باعث پاکستان حرمین شریفین کی سلامتی کو ایک اہم ذمہ داری سمجھتا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو پاکستان کی سفارتی اور دفاعی کوششوں سے بھی جوڑا جارہا ہے جب کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان اور برادر اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔
خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز
خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے افغانستان اور جنوبی و وسطی ایشیا میں تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) اور فتنہ الخوارج سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کو سیکیورٹی چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
مغربی خطے میں حوثی گروہوں سے وابستہ سیکیورٹی خطرات بھی خطے کے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہیں جب کہ ان گروہوں سے منسوب بعض سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر منظم پروپیگنڈا سرگرمیوں کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو ان بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔
حرمین شریفین کا تحفظ اولین ترجیح
پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت متعدد مواقع پر واضح کرچکی ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کی سلامتی کے معاملے پر پاکستان اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو اسی عزم کا عملی اظہار قرار دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان تعاون دفاع، سلامتی اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا یہ مشترکہ دفاعی تعاون تینوں ممالک کے باہمی اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
