آزاد کشمیر، ہڑتال میں ناکامی پر مسلح شرپسندوں کی فائرنگ سے پاک فوج کا سابق اہلکار شہید، 9 شرپسند گرفتار
مسلح عناصر کی جانب سے فائرنگ اور تشدد کے واقعات سے آزاد جموں و کشمیر کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوششیں سامنے آئی ہیں
آزاد جموں و کشمیر میں ہڑتال کی ناکامی کے بعد مسلح شرپسند عناصر کی جانب سے فائرنگ کے واقعات میں پاک فوج کے سابق اہلکار محمد رمضان شہید جبکہ امن کمیٹی کے ارکان، راہگیر اور ایک سرکاری ملازم زخمی ہوگئے، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 9 مشتبہ شرپسندوں کو گرفتار کرکے بھاری اسلحہ برآمد کرلیا۔
حکام کے مطابق 4 اکتوبر 2026 کو مسلح جتھے کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر میں ہڑتال کی کال دی گئی تھی جسے عوام نے مسترد کردیا۔ ہڑتال ناکام ہونے پر مسلح افراد نے تحصیل تراڑ کھل کے مرکزی بازار میں شٹر ڈاؤن کرانے کے لیے فائرنگ شروع کردی، جس کے نتیجے میں پاک فوج کے سابق سپاہی محمد رمضان گولی لگنے سے شہید ہوگئے۔
شرپسند عناصر نے بلوچ بازار اور سندھنوتی میں بھی فائرنگ کی جس سے امن کمیٹی کے افراد شفقت، وارث، عدنان اور واصف سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ بلوچ بازار میں فائرنگ کے دوران چھٹی پر آئے سرکاری ادارے سے وابستہ سول ملازم عقیل انجم بھی زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے راولپنڈی منتقل کردیا گیا۔
دوسری جانب کوٹلی میں پولیس نے تخریب کاری کی منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر ملوث ایاز بٹ سمیت 8 افراد کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران چار سب مشین گنز، ایک پستول، اسلحے کے راؤنڈز، دو دستی بم، دو موٹر سائیکلیں اور ایک گاڑی برآمد کی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ایاز بٹ مبینہ طور پر امتیاز اسلم اور خواجہ مہران کی ہدایات پر کارروائیاں کررہا تھا۔ ایک اور کارروائی میں ضلع بھمبر کے چپینڈ کے مقام پر سڑک بند کرنے، رکاوٹیں کھڑی کرنے اور پولیس پر پتھراؤ میں ملوث مبینہ شرپسند بدر الاسلام کو بھی گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق بدر الاسلام نے اپنے بیان میں بتایا کہ 4 اکتوبر کو چپینڈ میں موجود تھا جہاں کچھ افراد سڑک بند کررہے تھے۔ پولیس کی آمد پر گرفتاری کے خوف سے اس نے اہلکاروں کے ساتھ مل کر سڑک سے پتھر ہٹانا شروع کیے، تاہم پہاڑی پر موجود مسلح افراد نے پولیس اور اسے فائرنگ کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
بدر الاسلام کے مطابق فائرنگ کے دوران عثمان نامی شخص جاں بحق ہوا، جبکہ پولیس نے اسے بھی فائرنگ سے بچایا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مسلح عناصر کی جانب سے فائرنگ اور تشدد کے واقعات سے آزاد جموں و کشمیر کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوششیں سامنے آئی ہیں، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
