پنجاب پولیس نے اقرار الحسن کو گرفتار نہیں کیا، عظمیٰ بخاری
اقرار الحسن کے اہلخانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ رات انہیں گھر سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس نے اقرار الحسن کو گرفتار نہیں کیا جب کہ ان کے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
عظمیٰ زاہد بخاری نے اقرار الحسن کی گرفتاری سے متعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پنجاب پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا۔
پنجاب پولیس نے اقرار الحسن کو گرفتار نہیں کیا،اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، ان کے بارے میں جیسے ہی کوئی مصدقہ اطلاعات موصول ہوں گی ان کے اہل خانہ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔
— Azma Zahid Bokhari (@AzmaBokhariPMLN) October 12, 2026
وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اقرار الحسن کے بارے میں جیسے ہی کوئی مصدقہ اطلاعات موصول ہوں گی، ان کے اہل خانہ کو آگاہ کردیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اقرار الحسن کے اہلخانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ رات انہیں گھر سے حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ ان کی اہلیہ نے ایک بیان میں کہا کہ کارروائی میں خواتین اہلکار بھی شامل تھیں جن کے بیجز پر این سی سی آئی اے کا نام درج تھا۔
اقرار الحسن کی پہلی اہلیہ قرۃ العین نے بھی واقعے سے متعلق بیان دیتے ہوئے الزام لگایا کہ رات تقریباً 2 بجے پانچ سے سات مرد اور دو خواتین زبردستی گھر میں داخل ہوئے اور اقرار الحسن کو دو گاڑیوں میں اپنے ساتھ لے گئے۔
قرۃ العین کے مطابق واقعے کے وقت ڈی ایچ اے سیکیورٹی موجود تھی تاہم اس نے کوئی کارروائی نہیں کی، پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دینے کے باوجود پولیس تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچی۔
