دنیا پر آئی ایم ایف کے قرضوں کا بوجھ بڑھنے لگا، حکومتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

دنیا پر آئی ایم ایف کے قرضوں کا بوجھ بڑھنے لگا، حکومتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق حکومتی قرضوں پر مؤثر اوسط شرح سود 2021 میں 2.3 فیصد تھی

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتی قرض لینے کی لاگت میں اضافے سے مالی دباؤ شدت اختیار کر رہا ہے جبکہ عالمی عوامی قرضہ 2030 تک دنیا کی مجموعی معاشی پیداوار کے 100 فیصد سے تجاوز کرسکتا ہے۔ ادارے نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے قابلِ اعتبار اقدامات کریں۔

آئی ایم ایف نے بدھ کو جاری کردہ بلاگ میں بتایا کہ جی سیون ممالک میں 10 سالہ سرکاری بانڈز پر اوسط منافع کی شرح فروری سے ستمبر کے دوران ایک فیصد سے زیادہ بڑھ گئی، جو تقریباً دو دہائیوں کی بلند ترین سطح ہے۔

رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں جھٹکے، مسلسل مہنگائی، سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب اور مصنوعی ذہانت سے منسلک معاشی ترقی کی توقعات نے قرض لینے کی لاگت بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھاری حکومتی قرضوں، اخراجات کے دباؤ اور نئے سرکاری بانڈز کے اجرا میں متوقع اضافے نے بھی شرح منافع میں اضافے کو تقویت دی ہے۔

آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق حکومتی قرضوں پر مؤثر اوسط شرح سود 2021 میں 2.3 فیصد تھی، جو 2031 تک بڑھ کر 3.7 فیصد ہوسکتی ہے۔ امریکا میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں وبا سے پہلے مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 2.8 فیصد کے برابر تھیں، جن کے 2031 تک بڑھ کر 5.7 فیصد ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ یہ شرح امریکا میں سوشل سیکیورٹی اخراجات کے متوقع حجم کے تقریباً برابر ہوگی۔

کم آمدنی والے ممالک کے لیے صورتحال مزید تشویش ناک ہے، جہاں حکومتوں کی ٹیکس آمدن کا 15 فیصد سے زیادہ حصہ پہلے ہی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں خرچ ہورہا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات بڑھنے سے تعلیم، صحت، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر عوامی خدمات کے لیے دستیاب وسائل محدود ہوجاتے ہیں، جبکہ معاشی بحران کے دوران حکومتوں کی امدادی اقدامات کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

فنڈ کے مطابق عالمی سطح پر بنیادی بجٹ خسارہ، جس میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں شامل نہیں ہوتیں، 2026 میں مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 3.3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ قرضوں اور قومی پیداوار کے تناسب کو مستحکم رکھنے کے لیے اس خسارے کو کم کرکے تقریباً 2.6 فیصد تک لانا ضروری ہوگا۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ قرضوں کی مختصر مدت اور پرانے قرضوں کی جلد تجدید کے باعث شرح سود میں اضافہ تیزی سے حکومتی مالیاتی اخراجات کو متاثر کررہا ہے۔ ادارے نے ترقی یافتہ معیشتوں کو قابلِ اعتماد مالیاتی منصوبے اپنانے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو قرضوں کے بہتر انتظام پر توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق مالیاتی اصلاحات میں تاخیر کی صورت میں مستقبل میں خسارے اور قرضوں کو قابو کرنے کے لیے کہیں زیادہ سخت اقدامات کرنا پڑسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے