11 سال بعد مالدیپ کے صدر کا دورہ پاکستان، شہباز شریف سے اہم مذاکرات ہوں گے
دونوں ممالک کے رہنما باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر 20 سے 22 اکتوبر تک پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے، جس کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، بحری سلامتی اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے ہمراہ خاتون اول ساجدہ محمد، کابینہ کے وزرا اور اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان آئے گا۔ 11 سال بعد مالدیپ کے کسی صدر کا یہ پہلا سرکاری دورہ پاکستان ہوگا، جسے دونوں ممالک کے تعلقات کے تناظر میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
دورے کے دوران صدر ڈاکٹر محمد معیزو صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، جبکہ صدر پاکستان ان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت بھی دیں گے۔ مالدیپ کے صدر وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے اور دونوں ممالک کے وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس موقع پر تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت اور زراعت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جبکہ دفاع، بحری سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے امکانات بھی زیر غور آئیں گے۔
دونوں ممالک کے رہنما باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ دورے کے دوران پاکستان اور مالدیپ کے درمیان کاروباری روابط بڑھانے اور اقتصادی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کے لیے پاک۔مالدیپ بزنس فورم بھی منعقد کیا جائے گا۔
بزنس فورم کا مقصد دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو قریب لانا، تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں سے متعلق متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے جائیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مالدیپ کے صدر کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا اہم موقع ہے۔ پاکستان اور مالدیپ 1966 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں، جس کے باعث اس دورے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
