اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے 5 سال کے لیے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی جس کے تحت گاڑیوں کی برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھانے، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں جب کہ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے کی آئی ایم ایف کی تجویز مسترد کردی گئی ہے۔
آٹو پالیسی کی دستاویز کے مطابق نئی پالیسی میں 2026 سے 2031 تک آٹو سیکٹر میں مقامی پیداوار، برآمدات، مسابقت اور صارفین کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
اس کے تحت گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹیز میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی جبکہ 2030-31 تک ٹیرف کو 15 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرحیں مقرر
نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے مختلف ٹیکس شرحیں تجویز کی گئی ہیں۔ دستاویز کے مطابق 2026 سے 2031 تک بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد رکھنے کی تجویز منظور کی گئی ہے جب کہ رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد سیلز ٹیکس رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹیز میں کمی اور 15 ہزار ڈالر سے کم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کم ٹیرف کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ 75 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کے لیے فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھاکر ایک کروڑ روپے کرنے اور قرض کی مدت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کرنے کی تجویز بھی منظور کی گئی ہے۔ پالیسی میں چھوٹی گاڑیوں کو کم آمدنی والے صارفین کی پہنچ میں لانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی برآمدات بڑھانے کا منصوبہ
نئی آٹو پالیسی کے تحت گاڑیوں کی برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جب کہ آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں کی برآمدات 2030-31 تک 1.2 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے لازمی برآمدی اہداف مقرر کرنے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔ اہداف کے مطابق برآمدات بڑھانے والی کمپنیوں کو برآمدی مالیت کا 5 فیصد معاوضہ دینے کی تجویز ہے جب کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی برآمدات پر مزید 10 فیصد مراعات دینے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جاسکیں گے جب کہ مسلسل دو سال تک اہداف پورے نہ کرنے کی صورت میں ان کے مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے اہداف
آٹو پالیسی میں مقامی سطح پر گاڑیوں اور پرزہ جات کی تیاری بڑھانے کے لیے نئے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ دستاویز کے مطابق مقامی پیداوار کے اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کی مراعات واپس لینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ ایک ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر آٹوموٹیو ڈویلپمنٹ لیوی عائد کی جائے گی۔ پالیسی کے تحت آئندہ پانچ سال میں اس لیوی کی مد میں 232 ارب روپے سے زائد وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق لیوی سے حاصل ہونے والی رقم برآمدی مراعات، صنعتی ترقی کے پروگراموں اور آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کے لیے استعمال کرنے کی تجویز ہے۔
آٹو سیکٹر میں تحقیق اور معیار بہتر بنانے کے اقدامات
نئی پالیسی میں پاکستان آٹوموٹیو ٹیسٹنگ انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کی تجویز بھی منظور کی گئی ہے۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد آٹو سیکٹر میں تحقیق، سرٹیفکیشن اور گاڑیوں کے معیار کی جانچ کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔
پالیسی میں تحقیق، سرٹیفکیشن اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کے لیے فنڈنگ کی تجویز شامل ہے جب کہ مقامی اور درآمدی گاڑیوں پر عالمی حفاظتی ضوابط نافذ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ آٹو کمپنیوں کے معاہدوں میں خریداروں کے تحفظ سے متعلق شرائط شامل کرنے اور سیکٹر میں شفافیت بڑھانے کے لیے سال میں دو مرتبہ آڈٹ کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ مقامی پیداوار اور برآمدی مراعات کی ادائیگیوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کیا جائے گا۔
آٹو پالیسی پر عمل درآمد کے لیے قانونی اقدامات
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ آٹو سیکٹر میں ہنرمند افرادی قوت کی تربیت کے لیے بھی نئے اہداف مقرر کیے گئے ہیں تاکہ صنعت کی ضروریات کے مطابق تربیت یافتہ افراد دستیاب ہوسکیں۔
آٹوموٹیو ڈویلپمنٹ لیوی سے متعلق قانون دسمبر 2026 تک بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نئی پالیسی میں صنعتی ترقی، برآمدات کے فروغ، مقامی پرزہ جات کی تیاری اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کو آٹو سیکٹر کی ترقی کے اہم شعبوں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے منظور کی گئی اس پانچ سالہ پالیسی کے تحت پاکستان کے آٹو سیکٹر میں مقامی پیداوار بڑھانے، عالمی منڈیوں میں رسائی بہتر بنانے اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جائیں گے۔
