مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے لیے بل ترک پارلیمنٹ میں پیش

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے لیے بل ترک پارلیمنٹ میں پیش

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کا معاہدہ 16 آرٹیکلز پر مشتمل ہے

ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے لیے بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا جس کے بعدترک پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں بل پر بحث متوقع ہے۔معاہدے کے تحت فریقین دفاعی صنعت اور سلامتی میں تعاون کریں گے.

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کا معاہدہ 16 آرٹیکلز پر مشتمل ہے یہ معاہدہ  7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا کسی ایک ملک پر حملے کی صورت میں متاثرہ ملک کی فوری مدد کرنے پر اتفاق، معاہدے کے تحت تینوں ممالک ایک دوسرے کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تعاون کریں گے
کسی بھی فریق کی خودمختاری یا علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہونے پر خطرے کے خاتمے کے لیے تمام ضروری ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔

دفاعی معاہدے میں فوجی وسائل اور صلاحیتوں سمیت باہمی تعاون کی فراہمی کی گنجائش شامل، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون کا فیصلہ معاہدے کے تحت مشترکہ دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔

تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ تربیت، مشقوں اور اہلکاروں کے تبادلوں کی شق بھی شامل، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے لیے محفوظ رابطہ کاری کا نظام قائم ہوگا۔

معاہدے کے تحت تینوں ممالک ایک دوسرے کو اسلحہ، گولہ بارود، ایندھن اور دیگر دفاعی سازوسامان فراہم کر سکیں گے
دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی قائم کی جائے گی، کمیٹی میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور سربراہانِ افواج شامل ہوں گے۔

اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس سال میں دو مرتبہ ہوگا، میزبانی تینوں ممالک باری باری کریں گے
مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا، معاہدے کے پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا، تقرری تین سال کے لیے ہوگی۔

معاہدے میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے تعاون پر زور، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا علاقائی و بین الاقوامی امور پر مشاورت اور مشترکہ مؤقف کے فروغ پر اتفاق
مکہ دفاعی معاہدہ غیر معینہ مدت تک نافذ العمل رہے گا۔

معاہدے سے دستبرداری کے لیے نفاذ کے دس سال مکمل ہونے کے بعد کم از کم تین ماہ قبل تحریری اطلاع دینا ہوگی معاہدے میں دیگر ممالک کی شمولیت کا طریقہ کار طے کرنے کا اختیار تینوں بنیادی فریقوں کی اتفاق رائے سے قائم کمیٹی کو ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے