’درِ نجات‘ کے ابوبکر میں بھی خامیاں؟ شہریار منور نے اہم راز کھول دیے
شہریار منور نے ’درِ نجات‘ کے ابوبکر کی چھپی خامیاں آشکار کر دیں
پاکستانی اداکار شہریار منور نے ڈرامہ سیریل ’درِ نجات‘ میں اپنے کردار ابوبکر کی شخصیت، اس کی خامیوں اور زریاب کے لیے جذبات کے حوالے سے دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔
اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں شہریار منور نے کہا کہ ابوبکر ایک نیک نیت انسان ضرور ہے تاہم اسے مکمل یا بے عیب شخصیت کا حامل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ابوبکر کی بڑی کمزوری دوسروں کو خوش رکھنے اور ہر کسی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
زریاب کے ساتھ ابوبکر کے تعلق پر بات کرتے ہوئے اداکار نے بتایا کہ اس کے دل میں زریاب کے لیے جذبات ابتدا ہی سے موجود تھے۔ انہوں نے یہ کردار اسی تصور کے تحت ادا کیا کہ ابوبکر طویل عرصے سے زریاب کو پسند کرتا ہے لیکن اپنے جذبات کو سمجھنے اور تسلیم کرنے میں الجھن کا شکار رہا۔
شہریار منور نے ڈرامے کے ایک منظر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب ابوبکر اور زریاب پہلی مرتبہ دوپہر کے کھانے پر باہر جاتے ہیں تو ابوبکر کو معلوم ہوتا ہے کہ زریاب کو پاستا پسند ہے۔ زریاب کے استفسار پر کہ اسے یہ بات کیسے معلوم ہوئی، ابوبکر بتاتا ہے کہ خالہ کشور نے ایک مرتبہ اس کا ذکر کیا تھا۔
اداکار کے مطابق یہ مختصر مکالمہ دراصل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ابوبکر کافی عرصے سے زریاب کی پسند اور ناپسند پر گہری نظر رکھتا آیا ہے اگر ابوبکر کے دل میں زریاب کے لیے خاص جذبات نہ ہوتے تو اسے اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی یاد نہ رہتیں۔
انٹرویو میں شہریار منور نے ابوبکر کی شخصیت کی ایک اور اہم کمزوری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کو خوش رکھنے کی کوشش میں اکثر اپنی خواہشات اور ضروریات کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے دوسروں کو انکار کرنا مشکل ہوتا ہے اور وہ ہر کسی کی توقعات پر پورا اترنے کے دباؤ میں رہتے ہیں۔
اداکار نے اعتراف کیا کہ وہ خود بھی کسی حد تک لوگوں کو خوش رکھنے کی عادت رکھتے ہیں اور اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دوسروں کو انکار کرنا بعض اوقات کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔
شہریار منور نے ابوبکر کے رویے کی ایک وجہ ’سیویئر کمپلیکس‘ کو بھی قرار دیا۔ ابوبکر کی والدہ نے اس کی تربیت کچھ اس انداز میں کی کہ اسے ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنے، انہیں مشکلات سے نکالنے اور ہر حال میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے کی ذمہ داری کا احساس دلایا گیا۔
اداکار کا مزید کہنا تھا کہ ابوبکر دوسروں کی مدد محض اپنی خواہش کے تحت نہیں کرتا بلکہ اسے یہ باور کرایا گیا ہے کہ دوسروں کے مسائل حل کرنا اس کا فرض ہے۔ یہی سوچ اسے مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھتی ہے اور اس کی شخصیت کی پیچیدگیوں کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
