ایمرجنسی لگاکر کیا آپ پختون مینڈیٹ کو جھاڑو لگانا چاہتے ہیں، بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آپ ایمرجنسی کس بنیاد پر لگائیں گے، ایمرجنسی لگاکر کیا آپ پختون مینڈیٹ کو جھاڑو لگانا چاہتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج جوائنٹ اپوزیشن کی صورت میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات ہوئی اور انہیں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کی دعوت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مشاورت کے بعد اے پی سی میں شرکت سے متعلق آگاہ کرنے کا کہا ہے جب کہ کانفرنس میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوگی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق اے پی سی میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اور صوبوں کے معاملات پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ اراکین پارلیمنٹ کی پکڑ دھکڑ ایک سنجیدہ معاملہ ہے، تمام جماعتوں کو اس بات پر متفق ہونا چاہیے کہ آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی خودمختاری پر کوئی ضرب نہیں آنی چاہیے، خیبر پختونخوا کی حکومت اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ ہمارے ہی وزراء کو اٹھایا جارہا ہے جو حکومتی رٹ اور صوبائی خودمختاری پر بڑی قدغن ہے۔

بیرسٹر گوہر کہتے ہیں کہ اگر آج خیبر پختونخوا کی صوبائی خودمختاری متاثر ہوئی تو کل پنجاب، سندھ اور بلوچستان بھی متاثر ہوسکتے ہیں، صوبائی خودمختاری پر حملے سے وفاق کمزور ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ حکومتیں اشاروں پر نہیں بلکہ عوام کی خواہش اور عدم اعتماد کی بنیاد پر ختم ہونی چاہیے، تمام فریقین غیر آئینی اقدامات سے باز رہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہماری حکومت ہے لیکن وفاقی حکومت بھی کچھ نہ کچھ کررہی ہے، غیر جمہوری رویے سے غیر جمہوری قوتوں کو جگہ ملے گی اور وہ مضبوط ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو مارچ کی کال دی گئی تھی تاہم سیاسی کمیٹی نے متفقہ طور پر اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہمارا مطالبہ صرف ملاقاتوں اور علاج کی سہولت کا ہے، یہ کوئی بڑی بات نہیں، ہم یقین دہانی کراچکے ہیں کہ نہ دھاوا بولیں گے اور نہ حملہ کریں گے۔

خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں مینڈیٹ بانی پی ٹی آئی کا ہے اور سہیل آفریدی کو بھی بانی پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ بنایا ہے۔ جب تک بانی پی ٹی آئی کی حمایت سہیل آفریدی کو حاصل ہے، وہی وزیراعلیٰ رہیں گے اور بانی پی ٹی آئی نے تاحال ان پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔

بیرسٹر گوہر نے نورین نیازی سے منسوب خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میرے سمیت خاندان نے ایسی تمام خبروں کی تردید کی ہے۔ مشکل حالات میں سب کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، گورنر راج کس بنیاد پر لگایا جائے گا، سارے اختیارات تو پہلے ہی لے لیے گئے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے سوال اٹھایا کہ ایمرجنسی کس بنیاد پر لگائی جائے گی؟ کیا ایمرجنسی لگا کر پختون مینڈیٹ کو ختم کرنا چاہتے ہیں؟

انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہی کریں گے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اچکزئی صاحب کو وزیراعظم کا خط آیا ہے، ان سے ملاقات بھی ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دہشتگردی کے واقعے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے لیے گئے تھے اور انہوں نے سابق وزیراعلیٰ سے بھی ملاقات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کی ملاقات میں کوئی خاص بات نہیں جس پر بات کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی تو بھرپور مزاحمت کریں گے، دہشتگردی کو بنیاد بناکر گورنر راج نہیں لگایا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم واضح کرچکے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، دہشتگرد چاروں صوبوں اور پاکستانی عوام کے دشمن ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں ہم کبھی حائل نہیں ہوئے، بیک ڈور چینل سے ملاقاتیں بھی ہوئیں تو کبھی اعتراض نہیں کیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ شہداء ہمارا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہم نے کبھی شہداء کے جنازوں پر سیاست نہیں کی اور ان کے جنازوں میں بھی شرکت کرتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وفاقی وزراء کے ٹولے کا بیانیہ غلط ہے، ان کے بیانات کے بعد آج آزاد کشمیر میں جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے، یہ لوگ فیڈریشن کو کمپرومائز کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً ایک سال مکمل ہونے کو ہے لیکن بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہورہی، فیملی سے ملاقات پر پابندی اور وکلا تک رسائی سے محروم کرنا غیر انسانی سلوک ہے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں شروع ہونے سے تمام معاملات بہتر ہوجائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے