وزیراعظم کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے شرائط سامنے آگئیں
صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی پالیسیوں پر عمل کرنا ہوگا، وزیر اعظم
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی سے بچنے کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت اور دہشت گردی کے خلاف وفاقی پالیسی پر عمل درآمد سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جے یو آئی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو پی ٹی آئی سے گورنر راج یا ایمرجنسی سے بچنے کے لیے شرائط سے آگاہ کیا اور ان سے اس حوالے سے ضمانت بھی طلب کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی پالیسیوں پر عمل کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کے سامنے یہ شرط رکھی کہ پی ٹی آئی سے اس معاملے پر بات کی جائے۔
ذرائع بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو جواب دیا کہ وہ پی ٹی آئی سے بات چیت کے سلسلے میں ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پارٹی قیادت سے مشاورت کریں گے جس کے بعد پی ٹی آئی سے رابطہ کیا جائے گا۔
جے یو آئی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر پارٹی اجلاس میں مشاورت جاری ہے۔ پارٹی قیادت سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ کریں گے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم کی تجاویز یا شرائط کی روشنی میں پی ٹی آئی کی جانب سے مثبت جواب ملا تو مذاکراتی عمل کل شروع ہو سکتا ہے۔
