320 رنز کا ہدف ذہن میں تھا، بدقسمتی سے آؤٹ ہوگیا، حسن نواز

320 رنز کا ہدف ذہن میں تھا، بدقسمتی سے آؤٹ ہوگیا، حسن نواز

عرفات نے جس انداز میں بیٹنگ کی وہ پاکستان کے لیے بہت اچھا اشارہ ہے، قومی بیٹر

راولپنڈی: پاکستانی بلے باز حسن نواز نے میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف میچ میں 320 رنز بنانے کا ہدف ذہن میں تھا اور ٹیم اسی منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھی تاہم وہ خود 330 رنز تک پہنچنے کی امید رکھنے کے باوجود بدقسمتی سے آؤٹ ہوگئے۔

حسن نواز نے کہا کہ عرفات نے جس انداز میں بیٹنگ کی وہ پاکستان کے لیے بہت اچھا اشارہ ہے جب کہ 240 رنز کا ہدف حاصل کرنے یا اس کے قریب پہنچنے کی امید بھی ذہن میں تھی جس کا کریڈٹ عرفات کو جاتا ہے۔

حسن نواز کا کہنا تھا کہ کھلاڑی کی اپنی منصوبہ بندی ہوتی ہے جبکہ کوچ کا اپنا پلان ہوتا ہے تاہم میچ جیتنے کے لیے 300 سے زائد رنز بنانے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ کریز پر موجود تھے تو انہیں لگ رہا تھا کہ ٹیم 330 رنز تک پہنچ سکتی ہے لیکن بدقسمتی سے وہ آؤٹ ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کا شمار دنیا کی ٹاپ چار یا پانچ ٹیموں میں ہوتا ہے اور پاکستان بھی اچھی کرکٹ کھیل رہا ہے۔ کوشش ہے کہ ٹیم اپنی کارکردگی بہتر بنائے اور بڑی ٹیموں کے خلاف اچھا کھیل پیش کرے۔

حسن نواز نے اپنی فٹنس بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کی بولنگ اچھی تھی تاہم انہیں محسوس ہوا کہ ان کے ریفلیکسز سست ہوگئے ہیں، جنہیں بہتر بنانے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

پاکستانی بلے باز نے کہا کہ حارث، شاہین اور ٹیم فارم میں ہیں اور انہیں امید ہے کہ ٹیم آئندہ بھی اچھی کارکردگی دکھائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی ٹیم کے خلاف اپنی کارکردگی بہتر بنانا اور چیلنج کو پورا کرنا ان کی کوشش ہے۔

مڈل آرڈر میں کھیلنے کے حوالے سے حسن نواز نے کہا کہ انہیں اس پوزیشن پر کھیلتے ہوئے ڈیڑھ سال ہوگیا ہے اور اب وہ اس کردار میں اچھا محسوس کرتے ہیں۔

عرفات کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے حسن نواز نے کہا کہ عرفات نے بہترین بولنگ کی، وہ اچھے بولر ہیں اور پاکستان کے لیے ان کی کارکردگی ایک مثبت پیش رفت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے