ہم امن چاہتے ہیں، بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے، عطاء تارڑ

ہم امن چاہتے ہیں، بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے، عطاء تارڑ

‘وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں واضح کیا کہ ہمارا پانی روکنا جنگی اقدام تصور ہوگا’

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ہم پُرامن ملک ہیں، بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے۔

عطاء اللہ تارڑ نے پانی کا بطور ہتھیار استعمال، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی تاریخی، قانونی و تذویراتی پہلو پر خصوصی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی جانب سے رپورٹ کا اجراء لائق تحسین ہے، بطور پاکستانی ہمیں فخر ہے کہ ہمارا تعلق سندھ طاس کی قدیم تہذیب سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی یکطرفہ ہے، سندھ طاس معاہدہ محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں، معاہدہ 2 ممالک کے درمیان طے شدہ معاملہ ہے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف بلکل واضح ہے، سندھ طاس خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے۔ پاکستان کو کئی دہائیوں میں دہشت گردی کے باعث 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ ہمارا مشرقی ہمسایہ غیر قانونی طور پر سندھ طاس معاہدے کا اسٹیٹس بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت کی جانب سے ٹرانس نیشنل دہشت گرد اور پانی کو ہتھیار بنانے کی کوشش قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں واضح کیا کہ ہمارا پانی روکنا جنگی اقدام تصور ہوگا، پانی پاکستان کے عوام کی زندگی، زراعت اور معیشت سے براہ راست جڑا ہوا ہے، سندھ طاس معاہدہ خطے میں امن و استحکام کا ذریعہ ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی قانونی فورمز پر بھی پاکستانی مؤقف کو حمایت ملی، ہم پرامن ملک ہیں لیکن بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے، بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عطاء تارڑ نے مزید کہا کہ بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر سندھ طاس معاہدے کو التواء میں رکھنے کا اعلان کیا گیا، سندھ طاس معاہدے کو معطل یا التواء میں رکھنے کے خلاف عالمی عدالتیں واضح فیصلہ دے چکی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے