چین نے 4500 میٹر گہرائی تک پہنچنے والا جدید سمندری روبوٹ تیار کرلیا

چین نے 4500 میٹر گہرائی تک پہنچنے والا جدید سمندری روبوٹ تیار کرلیا

یہ روبوٹ مقامی طور پر تیار کردہ سات محوروں پر مشتمل ملٹی فنکشن ہائیڈرولک بازو سے لیس ہے

چین نے بحیرہ جنوبی چین میں گہرے سمندر کی سائنسی تحقیق کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ 4500 میٹر کلاس کا جدید زیر آب روبوٹ سمندر میں اتار دیا۔

چینی میڈیا کے مطابق روبوٹ مشرقی صوبے شان ڈونگ کے شہر ویہائی کی بندرگاہ سے روانہ ہوا جہاں ویہائی میں قائم ہاربن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی شاخ کے ساتھ مل کر بحیرہ جنوبی چین میں سائنسی تحقیق کی جائے گی۔

یہ روبوٹ مقامی طور پر تیار کردہ سات محوروں پر مشتمل ملٹی فنکشن ہائیڈرولک بازو سے لیس ہے۔ اس کی تیاری کے دوران گہرے سمندر میں دباؤ برداشت کرنے والی سیلنگ، طاقتور زیرِ آب propulsion، طویل فاصلے تک پانی کے اندر مواصلات اور مختلف طریقوں سے خودکار نیویگیشن سمیت 30 سے زائد اہم تکنیکی چیلنجز حل کیے گئے۔

روبوٹ گہرے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش و ترقی، زیرِ آب پائپ لائنوں کے معائنے، معدنی وسائل کی تلاش، سائنسی نمونے جمع کرنے اور ہنگامی ریسکیو جیسے پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس مشترکہ مشن کا مقصد حقیقی سمندری حالات میں روبوٹ کے مکمل نظام کی کارکردگی جانچنا، گہرے سمندر کے آلات کی آزمائشی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا اور لیبارٹری تحقیق کو صنعتی استعمال تک پہنچانا ہے۔

پروجیکٹ کے سربراہ تاؤ زی وین کے مطابق روبوٹ کا بنیادی ہارڈویئر اور سافٹ ویئر مکمل طور پر مقامی طور پر تیار اور کنٹرول کیا گیا ہے، جبکہ مستقبل میں مقامی گہرے سمندر کے آلات کی استعمال کی لاگت کم کرنے پر بھی کام جاری رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے