شیفیلڈ ویسٹ واٹر پلانٹ کے آپریٹر جونیئر رائنر نے بتایا کہ ان کی ٹیم کو شہر میں سیوریج کی بند لائن صاف کرتے ہوئے برل سلیٹر ہائی اسکول کی 1965 کی کلاس کی انگوٹھی ملی تاہم کارکنوں نے یہ انگوٹھی رائنر کے حوالے کر دی۔
رائنر نے جب اس کی مالک کی تلاش شروع کی تو معلوم ہوا کہ فلورنس، الاباما میں سیاہ فام طلبہ کے لیے قائم یہ اسکول 1969 میں تعلیمی اداروں میں نسلی انضمام کے دوران بند ہو گیا تھا۔ تاہم، وہ فیس بک پر سابق طلبہ کا ایک گروپ تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے، جہاں انہوں نے انگوٹھی کے بارے میں معلومات شیئر کیں۔ انگوٹھی پر OJM کے ابتدائی حروف کندہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مچھروں سے بچانے والے انوکھی انگوٹھی
کئی ماہ گزر گئے لیکن انگوٹھی کے مالک کے بارے میں کوئی اطلاع نہ ملی۔ اس دوران رائنر کے داماد نے بھی تلاش میں مدد کرنا شروع کر دی۔ اسے انٹرنیٹ پر برل سلیٹر اسکول کے چند فارغ التحصیل طلبہ کی ایک تصویر ملی، جس میں ایک شخص کی شناخت آسکر جیمز میرڈیتھ کے نام سے کی گئی تھی۔
رائنر کے داماد کے والد، جو سٹی کونسل کے رکن ہیں، نے بھی مدد کی اور وہ آسکر جیمز میرڈیتھ کی بیٹی اپریل میرڈیتھ مور تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
اپریل مور نے اپنے والد سے پوچھا جن کی عمر اب 79 سال ہے کہ کیا انہوں نے کبھی اپنی تعلیمی انگوٹھی کھوئی تھی؟
میرڈیتھ نے بتایا کہ انہوں نے یہ انگوٹھی اپنی ہائی اسکول کی دوست اینا کو تحفے میں دی تھی، جو بعد میں ان کی اہلیہ اور اپریل مور کی والدہ بنیں۔
میرڈیتھ کے مطابق، اینا کا چند سال قبل انتقال ہو گیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ شادی سے چند سال پہلے ان کی انگوٹھی گم ہو گئی تھی۔
رائنر نے اس جگہ کا جائزہ لیا جہاں سیوریج کی لائن سے انگوٹھی ملی تھی۔ انہیں معلوم ہوا کہ یہ جگہ اینا کے بچپن کے گھر کے بالکل سامنے واقع تھی۔ اس سے اندازہ لگایا گیا کہ ممکنہ طور پر انگوٹھی کسی وقت گھر کے سنک میں گر کر نکاسی کی لائن میں جا پہنچی تھی۔
بالآخر رائنر کی ملاقات میرڈیتھ سے ہوئی اور انہوں نے انگوٹھی انہیں واپس کر دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود انگوٹھی اب بھی میرڈیتھ کی انگلی میں پوری طرح فٹ آتی ہے۔
میرڈیتھ نے کہا کہ انگوٹھی واپس ملنے سے انہیں اسکول کے دنوں اور اینا کے ساتھ اپنے تعلق کی خوشگوار یادیں تازہ ہو گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب اس انگوٹھی کو اپنے گھر میں ایک شیشے کے شوکیس میں محفوظ کرکے رکھا جائے گا۔
