سیاست میں سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں، ورنہ سیاست نہیں کرسکتے، بلاول بھٹو

سیاست میں سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں، ورنہ سیاست نہیں کرسکتے، بلاول بھٹو

شہید بینظیر بھٹو نے سنگین خطرات کے باوجود پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا تھا

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سانحہ کارساز پاکستان کی تاریخ کا المناک واقعہ ہے جس کی دلخراش یادیں آج بھی تازہ ہیں، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرکے رہیں گے اور پاکستان کے کسی حصے سے قومی پرچم اتارنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

کراچی میں سانحہ کارساز کے شہدا کی یاد میں منعقدہ دعائیہ تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے سنگین خطرات کے باوجود پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا تھا، تاہم ان کے قافلے پر دہشت گردی کا بڑا حملہ کیا گیا۔ آج ہم سانحہ کارساز کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ دہشت گردی کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے قربانیاں دی ہیں جبکہ ملک کی سلامتی کے لیے ہماری بہادر افواج بھی قربانیاں دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ متحد ہو کر لڑنا ہوگی اور کسی کو ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ نقصان اس وقت ہوتا ہے جب دہشت گردی کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کے بقول سہیل آفریدی نے حلف اٹھایا کہ دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کریں گے، اگر وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تو پیپلز پارٹی یہ ذمہ داری ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ سوات میں پاکستان کا پرچم نہیں دیکھنا چاہتے تھے، لیکن شہید بینظیر بھٹو نے وعدہ کیا تھا کہ سوات میں پاکستان کا پرچم لہرائے گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن صوبے سے ایمرجنسی کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے آگے آکر بات چیت کرنا ہوگی۔ اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو ایمرجنسی کے خاتمے کی راہ نکل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن چاہتی ہے کہ گورنر راج ختم ہو تو اسے دہشت گردی کے خلاف مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ میں کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اپوزیشن کو بھی اس کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ جمہوری نظام میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے اور انتخابی اصلاحات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سیاست میں سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں، اگر سمجھوتہ نہیں کریں گے تو سیاست نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے ملک کی معاشی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت تاریخی معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور بظاہر حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، ملک کے تحفظ اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے تمام قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے