فرانس میں جاری احتجاج نے شدت اختیار کر لی، عمارتیں نذرِ آتش، 400 افراد گرفتار

فرانس میں جاری احتجاج نے شدت اختیار کر لی، عمارتیں نذرِ آتش، 400 افراد گرفتار

مظاہرین مہنگائی میں اضافے اور تعلیمی معیار میں گراوٹ کے خلاف احتجاج کررہے ہیں

یورپ کے مختلف ممالک میں مہنگائی، تعلیمی مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج نے شدت اختیار کرلی، فرانس میں مظاہرین نے عمارتوں کو آگ لگا دی جبکہ پولیس نے تقریباً 400 افراد کو گرفتار کرلیا۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت مارسی، ٹولوز اور دیگر شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ شہر لیون میں سیاحتی دفتر کو نذرِ آتش کردیا گیا، جبکہ دیگر مقامات پر عمارتوں اور املاک کو آگ لگانے اور دکانوں میں لوٹ مار کی اطلاعات سامنے آئیں۔

مظاہرین مہنگائی میں اضافے اور تعلیمی معیار میں گراوٹ کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مختلف شہروں میں کشیدگی کے باعث پولیس کو مظاہرین سے نمٹنے کے لیے کارروائیاں کرنا پڑیں۔

دوسری جانب البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں طلبہ کی قیادت میں حکومت مخالف احتجاج مسلسل پانچویں روز بھی جاری رہا۔ مظاہرین نے بدعنوانی اور روزگار کے محدود مواقع پر وزیراعظم ایڈی راما سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ یورپی ممالک میں نوجوانوں کی جانب سے جاری یہ مظاہرے معاشی مشکلات، تعلیمی مسائل اور حکومتی کارکردگی پر بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے