اسلام آباد: پاکستان نے 2027 میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے والے غیر ملکی رہنماؤں کی سیکیورٹی کے لیے 45 بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے پہلے مرحلے میں 30 مرسڈیز بینز میباخ ایس 680 گارڈ گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6 ارب 60 کروڑ روپے کی منظوری دی تھی جب کہ مزید 15 بی ایم ڈبلیو 760 ایکس ڈرائیو آئی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ سمٹ کے لیے مزید 15 بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی ہے جب کہ یہ اجلاس ستمبر 2027 میں پاکستان میں منعقد ہوگا۔
حکام کے مطابق نئی خریدی جانے والی 15 بی ایم ڈبلیو 760 ایکس ڈرائیو آئی گاڑیاں وی آر 9 سیکیورٹی معیار کی حامل ہوں گی جب کہ پہلے سے منظور شدہ 30 مرسڈیز بینز میباخ ایس 680 گارڈ سیڈان وی آر 10 معیار کی ہوں گی۔
دونوں گاڑیوں کی خریداری سے متعلق مکمل سمری آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن نے ابتدا میں ایس سی او اجلاس کے لیے 65 گاڑیوں کی خریداری کی تجویز دی تھی تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے نائب وزیراعظم، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ سے مشاورت کے بعد تعداد کم کرکے 45 کردی۔
وزیراعظم نے کابینہ ڈویژن کو گاڑیوں کی خریداری کے اخراجات کے تخمینے پر بھی نظرثانی کی ہدایت کی تھی۔
بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے حکومت کو نئی گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی میں خصوصی استثنیٰ دینا ہوگا۔ یہ پابندی کابینہ نے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت عائد کر رکھی ہے۔
ای سی سی نے کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ پابندی سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے کابینہ کے سامنے باقاعدہ کیس پیش کیا جائے۔
کمیٹی نے کسٹمز ایکٹ 1969، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت عائد ڈیوٹی اور ٹیکس سے استثنیٰ کے لیے بھی الگ کیس تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 7 ستمبر 2026 کو کابینہ ڈویژن نے ایس سی او اجلاس کے لیے بلٹ پروف اور دیگر گاڑیوں کی خریداری کی غرض سے 12 ارب 61 کروڑ روپے کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی درخواست کی تھی۔
ای سی سی نے اس درخواست میں سے 30 مرسڈیز گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6 ارب 60 کروڑ روپے کی منظوری دی تھی، جبکہ باقی گاڑیوں سے متعلق معاملہ دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
کابینہ ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سیکیورٹی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ 30 گاڑیاں کافی نہیں ہوں گی اور اجلاس کے لیے مجموعی طور پر 65 گاڑیوں کی ضرورت ہوگی۔
کمیٹی ارکان نے بھی اجلاس کے دوران اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر اعلیٰ ترین معیار کی بکتر بند گاڑیوں کی ضرورت پر زور دیا۔
حکام کے مطابق بلٹ پروف گاڑیوں کی تیاری میں خاصا وقت لگتا ہے جب کہ رائٹ ہینڈ ڈرائیو ماڈلز کی تیاری مزید وقت طلب ہوتی ہے جس کے باعث خریداری کے معاملے میں پہلے ہی تاخیر ہوچکی ہے۔
حکومتی حکام نے ایس سی او سربراہ اجلاس کو پاکستان کے لیے عالمی سطح پر اپنا تشخص اجاگر کرنے اور قومی مفادات کو فروغ دینے کا اہم موقع قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اس وقت بیرون ملک ہیں اور وطن واپسی پر کابینہ کے فیصلے کی توثیق متوقع ہے۔
