الیکشن کمیشن کے ڈاٸریکٹر جنرل شمشاد اختر ضلع ٹانک میں فائرنگ سے شہید
الیکشن کمیشن نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل شمشاد اختر ضلع ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔ الیکشن کمیشن نے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے سرکاری ملازمین کو دہشت گردی کے واقعات سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق شمشاد اختر دہشت گردی کی کارروائی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ الیکشن کمیشن نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ شہید شمشاد اختر نہایت دیانت دار، شریف النفس اور فرض شناس افسر تھے۔ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی اور یہ واقعہ خالصتاً ٹارگٹ کلنگ کا شاخسانہ ہے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ شمشاد اختر اپنے ساتھیوں اور رفقائے کار میں انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
چیف الیکشن کمشنر، ارکانِ الیکشن کمیشن، سیکرٹری اور کمیشن کے تمام ملازمین نے اس المناک سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
الیکشن کمیشن حکام نے شہید کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں پورا الیکشن کمیشن سوگوار خاندان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور اس کے تمام ملازمین نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کو دہشت گردی کے واقعات سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
