اسلام آباد: حکومت، پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کا پہلا مرحلہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں شروع ہوگیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کا اجلاس جاری ہے جس میں سیاسی معاملات اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ میں صرف ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہوں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں۔
انہوں ںے کہا کہ میرا دفتر مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ مذاکرات کے لیے کھلا ہے، اختلافِ رائے اور مسائل کے حل کا واحد راستہ مذاکرات ہیں، عہدے اور دفاتر عارضی ہوتے ہیں، پارلیمان ہی وہ واحد فورم ہے جہاں مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
حکومت اور پیپلزپارٹی کے مشترکہ وفد میں محسن نقوی، رانا ثنا اللہ، امیر مقام، شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی شامل ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر، علامہ ناصر عباس، سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ مذاکرات میں شریک ہیں۔
’بات چیت سے مثبت پیش رفت ہوگی‘
مذاکرات سے قبل پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ بات چیت سے مثبت پیش رفت ہوگی اور دیکھا جائے گا کہ حکومت اس معاملے پر کیا سوچتی ہے۔
’مذاکرات صرف فوٹوسیشن تک محدود نہیں ہونے چاہیے‘
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کامیاب ہونے چاہیے، مذاکرات صرف فوٹو سیشن یا آنیا اور جانیاں تک محدود نہیں ہونے چاہیے، مذاکرات کی کامیابی قوم کی ضرورت ہے۔
بیرسٹر گوہر نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی مسائل کا حل قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہر جگہ ہمیشہ انصاف مانگا ہے۔
’بیٹھ کر بات کی جاسکتی ہے حکومت سیاسی اصولوں کے مطابق جواب دے گی‘
اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں سے متعلق معاملات کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں گی جبکہ سیاسی معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات پر میز پر بیٹھ کر بات کی جاسکتی ہے اور حکومت سیاسی اصولوں اور قانون کے مطابق جواب دے گی۔ وزیراعظم کو خط لکھنا لیکن ملاقات نہ کرنا سیاسی رواداری کے لیے مناسب طرزِ عمل نہیں۔
واضح رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے رابطے گزشتہ روز تیز ہوئے تھے جس کے بعد اپوزیشن اتحاد نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کی اور اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں ملاقات پر اتفاق کیا تھا۔
