خراب آلو کا ایسا جسے جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

آلو دنیا میں سب سے زیادہ کھائی جانے والی ایک ورسٹائل سبزی ہے جسے ہر عمر کے افراد پسند کرتے ہیں تاہم اب سائنس دانوں نے اس فصل کے ایسے حصوں میں بھی قیمتی راز تلاش کرلیا ہے جنہیں عموماً فصل کی کٹائی کے بعد ضائع کردیا جاتا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایبرڈین کے سائنس دانوں نے آلو کے پتوں اور ٹہنیوں سے ایسے کیمیائی اجزا حاصل کرنے پر تحقیق کی ہے جو مستقبل میں بیوٹی اور اسکن کیئر مصنوعات میں استعمال ہوسکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق آلو کے ان حصوں میں سولانیسول نامی ایک مرکب پایا جاتا ہے۔ یہ ایک اہم کیمیائی جزو ہے جسے مختلف کاسمیٹک اور صحت سے متعلق مصنوعات میں استعمال ہونے والے مرکبات کی تیاری میں خام مال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اب تک سولانیسول کے حصول کے لیے تمباکو کو ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ آلو کی فصل سے حاصل ہونے والا زرعی فضلہ اس کے لیے ایک ممکنہ متبادل فراہم کرسکتا ہے۔

محققین کے مطابق اگر آلو کی فصل کے ان حصوں کو، جو عام طور پر ضائع کردیئے جاتے ہیں، مفید کیمیائی اجزا حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف فضلہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ کسانوں اور دیہی معیشت کے لیے بھی اضافی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

پروجیکٹ سے وابستہ ماہرین نے اس تحقیق کو آلو کی صنعت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے اور اسے اس بات کی مثال بتایا ہے کہ زرعی فضلے کو قیمتی مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر جلد کے دیکھ بھال کے لیے آلو استعمال کرنے کے مختلف ٹوٹکے پہلے ہی مقبول ہیں۔

ٹک ٹاک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر بعض صارفین آلو کے ٹکڑے آنکھوں کے نیچے رکھ کر ڈارک سرکلز کم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ آلو کو مہاسوں، داغ دھبوں یا جلد کی رنگت بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم سوشل میڈیا پر کیے جانے والے ان دعوؤں کو سائنسی طور پر ثابت شدہ علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔ جلد پر کسی بھی گھریلو نسخے کے استعمال سے پہلے احتیاط ضروری ہے، خصوصاً حساس جلد رکھنے والے افراد کے لیے۔

آلو میں مختلف غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں، جبکہ شکر قندی میں بیٹا کیروٹین جیسے مرکبات پائے جاتے ہیں۔ تاہم کسی غذا کے غذائی فوائد اور اسے براہِ راست جلد پر لگانے کے اثرات دو الگ چیزیں ہیں۔

ماہرین کے مطابق آلو سے حاصل ہونے والے مخصوص کیمیائی اجزا کو مستقبل میں کاسمیٹک مصنوعات میں شامل کرنے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ہوجاتی ہے تو مستقبل میں آلو کے وہ حصے جو آج زرعی فضلہ سمجھے جاتے ہیں، اسکن کیئر اور بیوٹی انڈسٹری کے لیے قیمتی خام مال بن سکتے ہیں۔

یوں ایک ایسی فصل جسے عموماً صرف کھانے کی میز تک محدود سمجھا جاتا ہے، مستقبل میں ”فارم ٹو فیس“ کے تصور کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے