وفاقی وزرا نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی خراب صورتحال اور صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے باعث مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق ڈیڑھ سال میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں 195 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 12 اضلاع میں حالات انتہائی خراب ہیں۔
وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، محسن نقوی اور عطا اللہ تارڑ نے دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور آئینی اقدامات کی تفصیلات بیان کیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آج کا دن مشکل ترین تھا اور وفاق نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک کوشش کی کہ خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ ملایا جائے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں، تاہم ان ملاقاتوں میں سیاسی معاملات کے بجائے دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر توجہ دی گئی۔
محسن نقوی نے بتایا کہ وفاق نے ابتدا میں پانچ اضلاع سے اقدامات شروع کرنے کی تجویز دی اور وزیراعلیٰ کو پیشکش کی کہ اگر وسائل کی کمی ہے تو وفاق مالی مدد فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ان کے بقول مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر اتفاق کیا تھا، تاہم بعد میں معاہدہ طے نہ پاسکا۔
وزیر داخلہ کے مطابق وفاقی حکومت نے دھرنے کے اعلان سے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ وزیراعظم کی نیویارک روانگی سے قبل دھرنا مؤخر کرانے کے لیے ملاقاتیں طے تھیں اور پیپلز پارٹی کا مؤقف بھی دھرنا مؤخر کرنے کے حق میں تھا، تاہم یہ وفاقی حکومت کی بنیادی شرط نہیں تھی۔
محسن نقوی نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بات ہوئی اور ڈرافٹ میں چار مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں سے آخری رات تک رابطہ رہا اور انہیں کہا گیا کہ مجوزہ مسودے میں جو تبدیلی کرانی ہے، بتا دیں، لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو بار بار بتایا گیا کہ دھرنے سے حکومت کو مسئلہ نہیں، وہ اپنا پروگرام کرے، وفاق صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کو ساتھ ملانا چاہتا تھا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں حالات انتہائی خراب ہیں اور وہاں دہشت گردی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ صوبے میں الیکشن کمیشن کے ایک سینئر افسر کی شہادت بھی ہوئی۔ ان کے مطابق وفاق اور صوبے کی دہشت گردی سے متعلق پالیسیاں الگ الگ نہیں چل سکتیں اور اس جنگ میں تنہا کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے طالبان کے ساتھ پی ٹی آئی کے روابط کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ اگر مذاکرات کے دوران معاہدہ ہوجاتا تو موجودہ حالات پیدا نہ ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مذاکرات کے دوران کون لوگ معاملات کو سبوتاژ کر رہے تھے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایمرجنسی کے نفاذ کو آئینی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں آئینی نظام کا بحران پیدا ہوچکا تھا اور دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔ ان کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی، جبکہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے دوران مثبت ردعمل نہیں دیا اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آئی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین وفاقی اکائیوں کو وفاق کے ساتھ مل کر کام کرنے کا پابند کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں حالات ایسے ہوگئے تھے کہ آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اقدامات کرنا ضروری سمجھا گیا۔
ان کے مطابق وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا اور وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ صدر مملکت کو ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے ایڈوائس بھیجی جائے، جس کے بعد صدر آصف علی زرداری نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کی۔ وزیر قانون کے مطابق آئینی اقدام کے تحت وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو غیر فعال کردیا ہے، جبکہ صوبے میں دہشت گردی کے اثرات دوسرے صوبوں تک بھی پہنچ رہے تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کے روابط دہشت گردوں سے جڑے ہوئے ہیں اور جماعت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غیر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے انتظامی حالات تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے تھے اور صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی۔
عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی اور طالبان کے درمیان مبینہ اتحاد کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں تھانے بھی طالبان کے حوالے کردیے گئے اور جن عناصر نے امن تباہ کیا، انہیں بااختیار بنایا گیا۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا فارمولا بن رہا تھا، جبکہ امن و امان کے قیام کی ذمہ داری رکھنے والوں نے دہشت گردوں کو سہولت فراہم کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے صوبے کے کئی اضلاع کو دہشت گردوں کے لیے آؤٹ سورس کردیا تھا۔
وفاقی وزرا نے پریس کانفرنس میں مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ صوبے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور آئینی انتظام کے بحران کے پیش نظر کیا گیا۔ تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے متعلق وفاقی وزرا کے الزامات پر مؤقف سامنے آنا اس معاملے کی مکمل تصویر کے لیے اہم ہوگا۔
