خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا نیٹ ورک توڑنے کا اعلان، کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہوگی، فیصل کریم کنڈی
دہشت گردی سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں ریاست کی رٹ مضبوط کی جائے گی، گورنر
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس ہوا جس میں صوبے میں امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے، کرپشن کے خلاف اقدامات اور ترقی و خوشحالی کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایڈوائزری کونسل کے ارکان کو خوش آمدید کہا اور مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وفاق اور عوام نے اعتماد کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عملی طور پر نتائج فراہم کیے جائیں۔ ایسا نہیں ہوگا کہ کمیٹیاں بنا کر دو ماہ بعد انہیں بھلا دیا جائے۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد کا عزم بھی ظاہر کیا۔
گورنر نے کہا کہ صوبائی حکومت کی پہلی ترجیح امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے، کیونکہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ انہیں امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق دہشت گردی سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں ریاست کی رٹ مضبوط کی جائے گی اور دہشت گردوں کے خلاف مربوط کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دہشت گردی کے پورے نظام، سہولت کاروں اور ان سے منسلک گٹھ جوڑ کو قانون کے مطابق ختم کرنا ہوگا۔ قومی ایکشن پلان اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر مؤثر عمل درآمد بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو جدید وسائل فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی تاکہ اہلکاروں کو مؤثر انداز میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔ ریاست کو پولیس اہلکاروں کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے بعد متاثرہ اضلاع میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور عوام کی مشکلات دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر صوبے میں آئینی اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم وہ سیاسی بحث یا الزام تراشی میں نہیں پڑنا چاہتے۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ خیبر پختونخوا کو امن، ترقی اور خوشحالی کی طرف لے کر جانا ہے۔
انہوں نے صوبے کے قدرتی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی دولت سے مالا مال ہے، یہاں گیس کی بڑی پیداوار کے ساتھ پانی کے وسائل بھی موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو عوام کی بہتری اور صوبے کی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ دوسرے صوبوں کے کامیاب اقدامات سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں ایسے مثالی اقدامات کیے جائیں کہ دیگر صوبے بھی ان کی پیروی کریں۔
فیصل کریم کنڈی نے ایڈوائزری کونسل کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ 24 گھنٹے ان کی خدمت اور معاونت کے لیے موجود ہیں۔ کونسل کے ارکان کو مل کر صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنا ہوگا اور اپنے عملی اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا کہ ریاست اور عوام نے ان پر جو اعتماد کیا ہے، وہ اس پر پورا اتریں گے۔
گورنر نے نوجوانوں کے مستقبل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انہیں بندوق کے بجائے قلم، کتاب اور امید فراہم کرے۔ ان کے مطابق صوبے میں پائیدار امن کے لیے صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کافی نہیں، بلکہ دہشت گردی کے سہولت کاروں اور معاون نظام کا خاتمہ، مؤثر حکمت عملی اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی بھی ضروری ہے۔
