بھارت میں مسلمانوں پر پانی بھی بند؟ ہزاروں افراد متاثر، معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچ گیا

بھارت میں مسلمانوں پر پانی بھی بند؟ ہزاروں افراد متاثر، معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچ گیا

بھارتیہ جنتا پارٹی کے نو منتخب رکن اسمبلی رتیش تیواری سے منسوب بیان بھی شامل ہے

بھارت میں مسلمانوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی سے محروم رکھنے کے الزامات نے انسانی حقوق سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کولکتہ کی جیوتی نگر کالونی میں پانی کی سپلائی بند ہونے سے تقریباً 5 ہزار غریب مسلمان مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان سمیر الاسلام نے پانی کی فراہمی بحال کرانے کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کرلیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ میونسپل حکام نے مرمت کا جواز پیش کرتے ہوئے رات کے وقت پانی کی فراہمی بند کردی، تاہم قریبی ہندو آبادی میں پانی کی سپلائی جاری ہے۔ متاثرہ افراد کو پینے کے پانی کے حصول کے لیے تقریباً ایک کلومیٹر دور جانا پڑ رہا ہے، جہاں سے وہ آلودہ پانی لانے پر مجبور ہیں۔

سمیر الاسلام نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پینے کے پانی کی فراہمی بنیادی انسانی حق ہے اور اسے محض انتظامی معاملہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مقامی حکام، حکومت اور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے باوجود شنوائی نہ ہونے پر اقوام متحدہ کو خط لکھا گیا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے نو منتخب رکن اسمبلی رتیش تیواری سے منسوب بیان بھی شامل ہے، جس میں مبینہ طور پر کہا گیا کہ بی جے پی کو ووٹ نہ دینے والوں کے کام نہیں کیے جائیں گے اور ان کے خلاف آئندہ پانچ برس تک حساب کتاب جاری رہے گا۔ اس بیان کے تناظر میں پانی کی بندش کو سیاسی انتقام قرار دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، تاہم پانی کی فراہمی معطل کرنے کی اصل وجہ اور اس فیصلے میں سیاسی مداخلت کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

کولکتہ کے سینئر صحافی سوبجیت باگجی کے مطابق ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم مخالف سیاست میں شدت آنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری مشکلات اور انتقامی کارروائیوں کے خوف سے مسلمان اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔

بھارت میں اس سے قبل بھی مسلم آبادی والے علاقوں میں بنیادی سہولیات کی بندش کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ 2022 میں مدھیہ پردیش میں پرتشدد واقعات کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں کے میونسپل کنکشن منقطع کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

پانی جیسی بنیادی ضرورت کو سیاسی اختلاف یا مذہبی شناخت سے جوڑنا سنگین انسانی حقوق کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔ اگر کسی آبادی کو امتیازی بنیادوں پر پینے کے پانی سے محروم رکھا گیا ہے تو یہ مساوی سلوک اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہوگا۔ جیوتی نگر کالونی کے معاملے میں شفاف تحقیقات اور متاثرہ شہریوں کو بلاامتیاز پانی کی فراہمی یقینی بنانا متعلقہ حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے